سوال۔ 

شوہر کے گم ہو جانے یا نامرد و مجنون ہو جانے،یا ظالمانہ برتاؤ اور سنگ دلی کی وجہ سےعورتوں اور ان کے پورے گھر والوں کے لیےسخت مصیبت کا سامنا ہوتا ہے کوئ نہ ٹھکانہ سے رکھتا ہے،اور نہ طلاق دیتا ہے، نہ خرچ دیتا ہے ان مشکلات کا حل موجود زمانہ میں آسانی سے ہو جائے اس کا کیا طریقہ کار ہے جس سے نکاح فسخ ہوجاۓ؟


 جواب 

 ۔شوہروں کے مظالم سے بچنے کے لیے کوئ ایسا شرعی طریقہ ہونا چاہیئے کہ جس پر عمل کرکے عورتیں اپنی حفاظت کر سکیں اور ان ظالم شوہروں سے طلاق لینے میں جو  دشواریاں پیش آتی ہیں وہ ختم ہو جائیں اور آسانی سے طلاق واقع ہو جاۓاس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ شوہروں کو ایسے شرائطِ  سے پابند کر دیا جائے جن سے ان کے مظالم کا سدّ باب ہو جائے، یا عورتیں بلا کسی دشواری کے نجات حاصل کر سکیں یہ شرائط اس قسم کی ہونی چاہئیں جو ان خطرات کو کما حقہ ختم کرتی ہوں مثلاً یہ شرط ہو کہ اگر شوہر اتنے دنوں تک غائب رہااور خبر گیری نہیں کی تو طلاق،اگر شوہر نے اتنے دنوں تک نان ونفقہ نہیں دیا تو طلاق، یا اس حد تک مارا تو طلاق یا اس قسم کے دیگر شرائط بیان کر دی جائیں جس سے عورتیں محفوظ رہ سکیں۔جب کبھی اس قسم کی باتیں پیش آئیں گی حسب شرائط طلاق پڑ جائے گی اور شوہروں سے طلاق حاصل کرنے میں جو دشواریاں  پیش آتی ہیں وہ نہیں آئیں گی

 یہ شرائط تحریری ہوں تو بہتر ہے تاکہ انکار کا موقع نہ ملے اور گواہان کے نام بھی درج کر لیے جائیں اور شوہروں سے دستخط لے لئے جائیں

کابین نامہ میں طلاق بائن یا مغلظہ ہونے کی تصریح کر دی جائے،یوں ہی شرائط صاف و صریح ہوں،مبہم یا محتمل الفاظ نہ ہوں جن کی طرح طرح کی تاویلیں کرکے ان ظالموں کو ظلم کرنے کا موقع ملے مثلاً یوں نہ لکھا جاۓ کہ یہ بات ہوئ تو تصور کیا جائے یا سمجھا جائے بلکہ یوں لکھا جائے یہ بات ہوئ تو طلاق ہو جائے گی ،یا پڑ جائے گی غرض کہ ہر طریقہ سے اطمینان کر لیں

اس طریقہ مذکور پر عمل کرنے کے بعد کسی مزید کاروائی کی بھی ضرورت نہیں رہتی

Post a Comment