غسل کرتے وقت مصنوعی دانتوں کو نکالنے میں اگر کوئ حرج دشواری نہ ہو بلکہ بہ آسانی نکل سکتا ہو ں تو انہیں نکال کر تہہ پانی پہچانا ضروری ہے اور وضو میں فرض نہیں ہے کہ اس میں کلی کرنا سنت ہے اور اگر نکالنا باعث حرج ہو تو ان کی تہہ تک پانی پہچانا غسل میں بھی لازم نہیں ہے یہی حکم فکس دانتوں کا بھی ہے کہ انہیں نکالنے میں حرج ضرور ہے
فتاویٰ رضویہ میں ہے"ہلتا دانت اگر تار سے جکڑا ہے معافی ہونی چاہیے اگرچہ تار کے نیچے نہ بہے

کہ باربار کھولنا ضرر دےگا نہ اس سے ہر وقت بندش ہو سکے گی 
یونہی اگر آکھڑا ہو دانت کسی مسالے مثلاً برادۂ آہنی مقناطیس وغیرہ سے جمایا گیا ہے جمے ہوۓ چونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہئے(ج1،ص99،کتاب الطہارت)
فتاویٰ مرکز تربیت افتا جلد 1ص 85

Post a Comment