حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً ، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے میرے والد سے ان کے مال میں سے میرے لیے کچھ ہبہ کرنے کے لیے کہا تو میرے والد صاحب نے ان کی فرمائش کو قبول کر لیا اور میرے لیے کچھ ہبہ کر دیا والدہ صاحبہ نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں جب تک کہ اس ہبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لیا جائے میں اس وقت بہت چھوٹا تھا والد صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ کو لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ اس کی والدہ یعنی بنت رواحہ مجھ سے کہتی ہیں کہ میں اپنے مال میں سے اس کے لیے کوئ چیز ہبہ کر دوں اور میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے سوا بھی تمہارا کوئ اور بیٹا ہے انہوں نے کہا جی ہاں حضور نے فرمایا کیا بقیہ اولاد کو بھی اس کے برابر دیا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل و انصاف قائم کرو مجھے کسی ظلم پر گواہ نہ بناؤ یا یہ فرمایا میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا وہ صحابی واپس گئے اور اپنادیا ہوا عطیہ واپس لے لیا
ایک تبصرہ شائع کریں