عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کر پاتا اس لیے وضو غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر رہ گئ اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا نہ ہی غسل
رہی مہندی تو ناخن پر اس کی تہہ جمتی نہیں ہے بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھتا ہے یہ مانع وضو و غسل نہیں ہے اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو و غسل ہو جاۓ گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھڑا کر وہاں پانی بہا دے اسی طرح حاشیہ فتاویٰ رضویہ جلد اول،صفحہ ۱۴پر ہے
فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول
ایک تبصرہ شائع کریں