ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر تھے اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرما رہے تھے کہ ایک جنتی اپنے رب سے جننت میں کھیتی کرنے کی اجازت طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیاتم اس حال میں خوش نہیں ہو کہ تم جو چاہتے ہو وہ تمہیں ملتا ہے؟
بندہ عرض کرے گا کیوں نہیں؟مگر پھر بھی میں کھیتی کرنا چاہتا ہوں اب وہ اپنی خواہش کے مطابق بیج بوئے گا پلک جھپکنے میں وہ ُاُگ بھی گیااور تیار بھی ہو گیا اور کاٹ بھی لیا گیا اس کھیت کی پیداوار پہاڑوں کے برابر ہوگی اب اللہ تعالٰی اس سے فرمائے گا اسے لے لے تیرا پیٹ کوئ چیز نہیں بھر سکتی اس حدیث کو سن کر وہ دیہاتی بولے قسم خدا کی یا رسول اللہ آپ اسے قریشی یا انصاری ہی پائیں گے کیونکہ یہی لوگ کاشتکاری کرتے ہیں ہم لوگ تو کاشتکارنہیں ہیں اس بات کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہنس پڑے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ ، فَقَالَ لَهُ : أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ ، قَالَ : فَبَذَرَ ، فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ، فَيَقُولُ : اللَّهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ ، فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا ، فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Post a Comment