حضرت علقمہ فرماتے ہیں لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوے تھے کہ اسی درمیان حضرت خباب آگئے اور مجھے دیکھ کر فرمایا اے عبد الرحمن کیا یہ نوجوان آپ کی طرح قرآن پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں،اگر آپ کہیں تو میں علقمہ سے کہوں کہ وہ آپ کو قرآن پاک میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے مجھ سے کہا تو میں نے حضرت خباب کی خواہش کے مطابق سورہ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنا دیا حضرت ابن مسعود نے پوچھا آپ کی رائےکیا ہے؟انہوں نے کہا بہت اچھا پڑھتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے جب حضرت خباب کی طرف توجہ دی تو آپ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی نظر آئ آپ نے کہا کیا اس انگوٹھی کے اتارنے کا وقت ابھی نہیں آیاہے؟حضرت خباب نے کہا آج کے بعد آپ اس انگوٹھی کو نہیں دیکھیں گے انہوں نے اس انگوٹھی کو نکال کر پھینک دیا
عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَجَاءَ خَبَّابٌ ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلَاءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ : أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ ، فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَيْفَ تَرَى ؟ قَالَ : قَدْ أَحْسَنَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ يَقْرَؤُهُ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَلْقَاهُ .
ایک تبصرہ شائع کریں