حضرت صفوان بن محرزمازنی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ ان کا ہاتھ تھامے کہیں جا رہا تھااسی درمیان ایک آدمی سامنے آیا اور بولا کیا آ پ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے ؟آپ نے فرمایا ہاں میں نے سنا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندۂ مومن کو قریب بلاۓ گا اور اس پر پردہ ڈال کر چھپا لے گااور ارشاد فرماۓگا کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو ؟کیا تم نے یہ سب گناہ کیے ہیں؟بندہ کہے گا ہاں میں نے یہ سب گناہ کیے ہیں یہاں تک کہ پروردگار عالم اس بندہ سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور وہ بندہ مومن دل میں سوچے گا اب تو وہ ہلاک ہو گیا اور برباد ہو گیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپایا ہے اور آج تجھے بخشتا ہوں پھر اس کو بخشش و مغفرت کا پروانہ دیا جائے گا لیکن کافر اور منافق تو ان کے متعلق گوہ سب کہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کو جھٹلا یا خبردار ظالموں پر خدا کی لعنت ہے
ایک تبصرہ شائع کریں