عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضَ ثَمُودَ الْحِجْرَ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا وَاعْتَجَنُوا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا وَأَنْ يَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ ، تَابَعَهُ أُسَامَةُ ، عَنْ نَافِعٍ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر)جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ قوم ثمود کی جگہ یعنی مقام حجر میں اترے تو لوگوں نے ان کے کنواں سے اپنے مشکوں میں پانی بھر لیا اور اس سے آٹا بھی گوندھ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حکم دیا اس کنواں سے جو پانی بھرا ہے اس کو بہا دو اور اس پانی سے جو آٹا گوندھا ہے وہ اونٹوں کو کھلا دو اور آپ نے فرمایا تم لوگ اس کنواں سے پانی بھرو جس کنویں سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی

Post a Comment