بارہ وقتوں میں نفل اور سنت نماز پڑھنے کی ممانعت ہے
1 صبح صادق سے سورج نکلنے تک فجر کی دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا کوئ بھی نفل نماز پڑھنا منع ہے
2 سورج ڈوبنے کے بعد اور مغرب کی فرض پڑھنے سے پہلے جائے نفل نماز جائز نہیں ہے
3 نماز عصر پڑھ لینے کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئ نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے قضا نمازیں سورج ڈوبنے سے بیس منٹ پہلے تک پڑھ سکتا ہے
4 جس وقت امام اپنی جگہ سے جمعہ کے خطبہ کے لیے کھڑا ہو اس وقت سے لے کر نماز جمعہ ختم ہو نے تک کوئ نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں
5 عین خطبہ کے درمیان کوئ نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں چاہے جمعہ کا ہو یا عیدین کا گرہن کی نماز کا یا نماز استسقاء کا یا نکاح کا لیکن ہاں صاحب ترتیب کے لیے جمعہ کے خطبہ کے درمیان بھی قضا نماز کو پڑھ لینا لازم ہے
6 اقامت شروع ہو نے سے جماعت ختم ہو نے تک کوئ سنت و نفل پڑھنی مکروہ تحریمی ہے ہاں البتہ اگر نماز فجر کی اقامت ہونے لگی اور اس کو معلوم ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ ہی سہی تو اس کو چاہئے کہ صفوں سے کچھ دور ہٹ کر فجر کی سنت پڑھ لے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائےاور اگر وہ یہ جانتاہے کہ سنت پڑھے گا تو جماعت نہیں ملے گی تو اس کو سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ بغیر سنت پڑھے جماعت میں شامل ہو جائے فجر کی نماز کے علاؤہ دوسری نمازوں میں اقامت ہو جانے کے بعد اگر چہ یہ جان لے کہ سنت پڑھنے کے بعد بھی جماعت مل جائے گی پھر بھی سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ سنت چھوڑ کر فوراً ہی جماعت میں شامل ہو جانا ضروری ہے
7 عید کی نماز سے پہلے نفل نماز مکروہ ہے چاہے گھر میں پڑھے یا مسجد میں یا عیدگاہ میں
8 عیدین کی نماز کے بعد بھی عیدگاہ یا مسجد میں نماز نفل پڑھنی مکروہ ہے ہاں اگر گھر میں نفل پڑھے تویہ مکروہ نہیں
9میدان عرفات میں جو عصر اور ظہر ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے درمیان میں اور بعد میں نفل و سنت مکروہ ہے
10 مزدلفہ میں جو مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے بیچ میں نفل و سنت پڑھنی مکروہ ہے دونوں نمازوں کے بعد اگر نفل وسنت پڑھے تو مکروہ نہیں ہے
11 نماز فرض کا وقت اگر تنگ ہو گیا ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ فجر ظہر کی سنتیں پڑھنی بھی مکروہ ہے جلدی جلدی فرض پڑھ لے تاکہ نماز قضا نہ ہونے پائے
12 جس بات سے دل بٹے اور اس کو دور کر سکتا ہو تو اس کو دور کیے بغیر ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانہ پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو تو ایسی حالت میں نماز مکروہ ہے یوں ہی کھانا سامنے آگیا اور بھوک لگی ہو یا دوسری کوئ بات ایسی ہو جس سے دل کو اطمینان نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز پڑھنی مکروہ ہے البتہ اگر وقت جارہا ہو تو ایسی حالت میں نماز پڑھ لے تاکہ قضا نہ ہو جاۓ لیکن پھر اس نماز کو دہراۓ
ایک تبصرہ شائع کریں