، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ : تَعْرِفِينَ فُلَانَةَ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ ، فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي ، فَإِنَّكَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي ، قَالَ : فَجَاوَزَهَا وَمَضَى ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : مَا عَرَفْتُهُ ، قَالَ : إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ .
حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے گھر کی کسی عورت سے پوچھا کہ کیا تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟ اس نے کہا جی ہاں حضرت انس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے پاس سے گزرے اس وقت یہ قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی حضور نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر کرو تو اس عورت نے جواب دیا جو مصیبت مجھ پر پڑی ہے آپ اسے نہیں جانتے ہیں اس کی بات کو سن کر حضور آگے بڑھ گئے ایک آدمی اس عورت کے پاس آیا اور پوچھا حضورنے تم سے کیا فرمایا تھا؟اس نے کہا افسوس،میں نے تو حضور کو نہیں پہچانا اس آدمی نے بتایا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اب وہ حضور کے دروازے پر آئ اس نے دروازے پر کسی دربان کو نہیں پایا تو خود حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم میں نے آ پ کو پہچانا نہیں تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمے کے شروع میں ہوتا ہے یعنی جب صدمہ لاحق ہو یا پریشانی آئے تو شروع میں تکلیف پر صبر کرے تاکہ اجر و ثواب کا مستحق ہو
ایک تبصرہ شائع کریں