ا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولَ : يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوئے سنا کہ میری امت کے ہر فرد کو معاف کر دیا جائے گا مگر ان کو نہیں جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں اور بے باکی یہ ہے کہ رات میں ایک آدمی کوئ کام کرتا ہے پھر صبح کو لوگوں سے بیان کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے وہ کہتا ہے اے فلاں میں نے گزشتہ رات ایسا ایسا کیا ہے رات کو اس کے رب نے پردہ ڈالاہے اور وہ صبح کو اللہ تعالیٰ کے ڈالے ہوئے پردہ کھول رہا ہے

Post a Comment