سورج نکلتے وقت،سورج ڈوبتے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت کوئ نماز پڑھنا جائز نہیں لیکن اس دن کی عصر اگر نہیں پڑھی ہے تو سورج ڈوبنے کے وقت پڑھ لے مگر عصر میں اتنی دیر کرکے نماز پڑھنا سخت گناہ ہے
ان تینوں وقتوں میں قرآن مجید کی تلاوت بہتر نہیں ہے اچھا یہ ہے کہ ان تینوں وقتوں میں کلمہ،یا تسبیح یا درود شریف وغیرہ پڑھنے میں مشغول رہے
سورج ڈوبنے اور نکلنے کے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت جنازہ لایا گیا تو اسی وقت پڑھیں گے کوئ کراہت نہیں ہے کراہت اس صورت میں ہے جنازہ ان وقتوں سے پہلے لایا گیا مگر نماز جنازہ پڑھنے میں اتنی دیر کر دی کی مکروہ وقت آگیا
جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو اس وقت سے لے کر تقریباً بیس منٹ تک کوئ نماز جائز نہیں سورج نکلنے کے بیس منٹ بعد جب سورج ایک لاٹھی کے برابر اونچا ہو جاۓ اس کے بعد ہر نماز چاہے نفل ہو یا قضا یا کوئ دوسری پڑھنی چاہئے
ایک تبصرہ شائع کریں