نماز وتر کا وقت وہی ہے جو عشاء کا وقت ہے لیکن عشاء پڑھنے سے پہلے وتر نہیں پڑھیں جا سکتی کیوں کہ عشاء اور وتر میں ترتیب فرض ہے یعنی ضروری ہے کہ پہلے عشاء پڑھ لی جاۓ اس کے بعد وتر پڑھی جاۓ۔اگر کسی نے قصداً عشاء کی نماز سے پہلے وتر پڑھ لی تو وتر ادا نہیں۔ ہوگی بلکہ عشاء پڑھنے کے بعد پھر وتر پڑھنی پڑے گی ہاں اگر بھول کر وتر عشاء سے پہلے پڑھ لی یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشاء بغیر وضو کے پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ پڑھی تھی تو وہ وضو کرکے عشاء کی نماز پڑھے لیکن وتر جو پہلے پڑھ لی ہے وہ ادا ہو گئ اس کو دہرانا ضروری نہیں
عشاء کا وقت شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعد سے صبح صادق کی سپیدی ظاہر ہونے تک ہے یکن عشاء میں تہائ رات تک تاخیر کرنا مستحب ہے اور آدھی رات تک مباح ہے اور آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنی مکروہ ہے
ایک تبصرہ شائع کریں