بندہ کو واجب ہے کہ اپنے پروردگار سے امید رکھے اور اپنے گناہوں سے ڈرتا رہے

جس کو علم نہیں وہ علم سیکھنے میں شرم نہ کرے۔تحصیل علم فریضہ ہے ہر مسلم کا
جس کو کسی سوال کا جواب نہیں آتا  واللہ اعلم کہنے سے نہ شرماوے
جس نے اپنی قدر ومنزلت پہچان لی کبھی برباد نہ ہوگا ہر شخص کی قیمت وہی ہے جو اس میں خوبی پیدا کرے
لوگ خواب غفلت میں پڑے سو رہے ہیں جب مرتے ہیں تو ہوشیار خبرداد ہوتے ہیں
تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی
عقل بڑی دولت و مال داری ہے
لالچی ذلت وخواری کی قید میں مبتلا ہے
علم مال سے بہتر ہے ۔مال کی تو حفاظت کرتا ہے 
علم حاکم اور مال محکوم ہے
تیرا مال وہی ہے جو رونے خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔جو پیچھے رہا وہ وارثوں کا ہے
بے ادبی کے ساتھ شرف نہیں
بخل سب عیبوں کو جمع کر لیتا ہے
صبر کی نسبت بے صبری میں زیادہ تعب و مشقت ہے
حسد کے ساتھ راحت نہیں تقوی سے بڑھ کر کوئ کرامت نہیں ہے

Post a Comment