ظہر کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ٹھیک دوپہر کے وقت کسی چیز کا جتنا سایہ ہوتا ہے  اس سایہ کے علاؤہ اسی چیز کا سایہ دوگنا  ہو جاۓ تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے ظہر کے وقت میں مستحب یہ ہے کہ جاڑوں میں اول وقت اور گرمیوں میں دیر کر کے نماز پڑھے

سورج ڈھلنےاور دوپہر کے سایہ کے علاؤہ سایہ دوگنا ہونے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین پر ایک ہموار لکڑی بلکل سیدھی اس طرح گاڑ دیں کی پوربی پچھم اتر دکھن کو ذرا بھی جھکی نہ ہوا خیال رکھو کہ جتنا سورج اونچا ہوتا جاۓ گا اس لکڑی کا سایہ کم اور چھوٹا ہوتا جاۓ گا جب سایہ کم ہونا رک جاۓ تو سمجھ لو ٹھیک دوپہر ہو گیا  اور اس وقت میں اس لکڑی کا جتنا بڑا سایہ ہو اس کو ناپ کے رکھو اس کے بعد جوں ہی سایہ بڑھنے لگے تو سمجھ لو سورج ڈھل گیا اور ظہر کا وقت شروع ہو گیا اور جب سایہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑا ہو جاۓ کہ دوپہر والے سایہ کو نکال کر اس لکڑی کا سایہ اس لکڑی سے دوگنا ہو جاۓ تو سمجھ لو کہ ظہر کا وقت نکل گیا اور عصر کا وقت  شروع ہو گیا
جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے

Post a Comment