جس نے ابتدائے اسلام میں انتقال کیا وہ بہت خوش قسمت تھا فتنوں سے بچ نکلا
صالحین یکے بعد دیگرے اٹھا لیے جائیں گے باقی ماندہ ایسے بیکار لوگ رہ جائیں گے جیسے آٹے کی بھوسی-جن سے اللہ تعالیٰ کو کوئ تعلق نہیں ہوگا
جس سے ہو سکے خوف خدا سے رو لے-ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب کہ اسے رلایا جائے گا
عورتوں کو سونے کی سرخی اور زعفران کی زردی نے ہلاک کر دیا
اگر ایک بھائ دوسرے بھائ کے حق میں دعا کرتا ہے تو وہ ضرور مستجاب ہوتی ہے
مسلمان کو ذرا سا بھی رنج پہنچتا ہے تو خدا اسے اجر دیتا ہے خواہ وہ رنج جوتے کا تسمہ ٹوٹنے یا کسی مال کے گم ہو جانے سے ہو بالآخر مایوسی کے بعد اس کے آستین ہی میں کیوں نہ پایا جاۓ
جب تک کلام منھ میں ہے تیرا اسیر ہے جب منھ سے نکل گیا تب تو اس کا اسیر ہے
ماں باپ کی خوشنودی دنیا میں موجب دولت اور آخرت
میں نجات کا سبب ہے
جس پر نصیحت اثر نہ کرےوہ جانےکہ میرا دل نور ایمان سے خالی ہے
انسان ضعیف اور فانی ہے پھر تعجب ہے خدائےقوی وباقی کی نافرمانی کرتا ہے
بدبخت تو وہ ہے جو خود تو مر جائے مگر اس کا گناہ نہ مرے
اس دن پر رو جو گزر گیا اور تو کوئ نیکی نہ کر سکا
مومن موت سے نہیں ڈرتا بلکہ برے اعمال سے ڈرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں