حالت روزہ میں منجن کرنا کیسا ہے؟
بلا ضرورت صحیحہ حالت روزہ میں منجن کرنا مکروہ ہے پھر اگر منجن کے اجزاء حلق سے نیچے اتر گئے تو روزہ بھی ٹوٹ جائے گا
فقیہ فقید المثال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: منجن ناجائز و حرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: کرہ له ذوق شيء روزہ دارکو شی کا چکھنا مکروہ ہے
فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٠ ص ٥٥١/مطبوعہ مرکز اہلسنت برکات رضا
حضور بحر العلوم مفتی محمد عبد المنان اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منجن اور ٹوتھ پیسٹ وغیرہ کے باریک اجزاء حلق سے اتر گئے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور نہ اترے تو نہ ٹوٹے گا البتہ ایسی چیزوں کا منہ میں رکھنا روزہ کو مکروہ کر دیگا
(فتاویٰ بحر العلوم ج ٢ ص ٢٧٤)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
محمد ذیشان مصباحی غفر لہ
دلاور پور محمدی لکھیم پور کھیری یوپی انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں