▫️ حضرت ابن عباس سے مروی ہے فرماتے ہیں کی حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ایام ایسے نہیں ہیں جن میں عمل اللہ پاک کو ان دنوں یعنی ذ ی الحجہ کے دس دنوں کے عمل سے ز یاد ہ پسند ہو صحابہ اکرام نے عرض کیا کیا راہ خدا میں جہاد بھی ایسا نہیں؟

آپ نے فرمایا ہاں راہ خدا میں جہاد بھی مگر یہ کی آدمی اپنا ما ل وجان لیکر راہ خدا میں نکلا اور ان میں سے کچھ بھی سلامت نہ لایا

▪️حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک جوان جو احادیث رسول اللہ کو سنا کرتا تھا جب ذی الحجہ کا چاند نظر آیا تو اس نے روزہ رکھ لیا جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے اسے بلایا اور پوچھا تجھے کسنے اس بات پر آمادہ کیا کی تو نے روزہ رکھ لیا؟

اُسنے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ حج اور قربانی کے دن ہیں شاید کی اللہ پاک مُجھ انکی دعاؤں میں شامل فرما لے آپ نے فرمایا تیرے ہر دن کے روزہ کا اجر سو غلام آزاد کرنے کے برابر سو او نٹوں کی قربانیوں اور راہ خدا میں دے گئے سو گھو ڈوں کے اجر کے برابر ہے

جب آٹھویں ذ ی الحجہ کا دن ہوگا تو تجھے اس دن کے روزہ کا اجر ہزار غلام آزاد کرنے ہز ا ر او نٹ کی قربانی اور راہ خدا میں سواری کے لئے ہز ا ر گهو ڈے دینے کے برابر حاصل ہوگا جب نویں کا دن ہوگا تو تجھے اس دن کے روزہ کا ثواب دو ہز ا ر غلام آزاد کرنے دو ہزار اونٹوں کی قربانی اور راہ خدا میں سواری کے لیے دے گئے دو ہزار گھوڑوں کے اجر کے برا بر ہوتا ہے

▫️نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا کی جب عر فہ کا دن (۹ذی الحجہ) ہوتا ہے تو اللہ تعالی اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے اس دن سے زیادہ کسی دن میں بھی لوگ آگ سےآزاد نہیں ہوئے اور جس نے عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی حاجت طلب کی تو اللہ تعالی اُسکی حاجت پوری کردیتا ہے اور عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے

▪️نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا جس نے یوم التر ویہ (۸ذی الحجہ) کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے حضرت ایّوب علیہ السّلام کے مصا يب پر صبر کرنے کے برابر اجر و ثواب عطا فرماتا ہے اور جس نے يوم عرفہ (۹ذی الحجہ) کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے برابر اجر و ثواب عطا فرماتا ہے

▫️ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی نویں ذی الحجہ کا روزہ دو سال کے روزوں کے برابر ہے اور عاشورہ کا روزہ ایک سال کے برابر ہے

▪️نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص عرفہ کے دن دو رکعتیں پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ تین بار بِسمِ اللہِ اور آمین کے ساتھ پڑھے پھر تین بار سورہ کافرون اور ایک بار سورہ اخلاص ہر بار بِسمِ اللہِ الَّرحمن الرحیم سے شروع کرے تو اللہ فرماتا ہے گواہ ہو جاؤ میں نے اس کے گناہ بخش دے

▫️حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی پاک نے فرمایا جو شخص عرفہ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان چا ر رکعتیں یوں پڑھے کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پچاس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اسکے لیے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور قرآن پاک کے ہر حرف کے بدلے جنت میں ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے ہر دو درجوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے

📌نوٹ۔
یوم عرفہ یعنی ۹ ذی الحجہ
 اگر کوئی روزہ رکھے تو اپنے ملک اور تاریخ کے حساب سے ہی رکھنا ہے جس دن ۹ تاریخ ہوگی وہی عرفہ کا دن ہے یہ کہنا بالکل غلط ہے کی جس دن حاجی عرفات کے میدان میں اکٹھا ہوں وہی دن عرفہ کا ہے اور اسے دن روزہ رکھنا ہے چاہے آپ کے ملک میں کوئی بھی تاریخ ہو

جب کی حدیث میں صاف طور پر تاریخ کا ذکر ہے کہ ۹ تاریخ ہی عرفہ کا دن ہے
تو جس طرح ہم اور چیزیں اپنے ملک کی چاند کی تاریخ کے حساب سے کرتے ہیں اسے طرح عرفہ کے معمولات بھی اپنے وطن کے حساب سے کریں گے نہ کی مکہ شریف کی تاریخ کی حساب سے

_از_______
اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی مینیجر مدرسہ سرتاج العلوم غوث الورٰی

Post a Comment