⬅ آج شعبان کی پہلی تاریخ اور پہلا جمعہ ہے اور یہ جمعہ جس طرح کا گزرا اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کی چند لوگوں ہی نے نماز جمعہ پڑھی ہو اکثر وہ لوگ جو پنج وقتہ نماز نہیں پڑھتے پھر بھی جمعہ کی وہ بھی پڑھ لیتے ہیں-

دل بہت مظطرب ہوا یہ کیفیت دیکھ  ابھی وقت ہے ہم اپنے رب کی طرف پلٹ جایں-

جب یہ وباء نہیں پھیلی تھی تو ہماری قوم کا عالم کیا تھا
جب کی ہر طرح سے آزاد تھے ہم اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لے پھر بھی انتظار ہوتا تھا کی اذان اور خطبہ ہو نے کے بعد جایں گے-

🔅 یہ وباء جو پھیلی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک کو ڈاؤن کر دیا گیا ہے  کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں کی یہ حکومت کی چال ہی شاہین باغ کا احتجاج ختم کرنے کے لیے  سوچنے کا مقام ہے  کیا یہ وائرس صرف آپ کے ملک میں ہے نہیں بلکہ اس وباء نے لاکھوں لوگوں کا اپنا شکار بنا لیا ہے ہمارے ملک کے علاؤہ دوسرے ملکوں میں بھی اس نے تباہی مچادی ہے بڑے بڑے حکمرانوں کو بھی اپنا شکار بنا چکا ہے جن کے پاس نہ دولت کی کمی ہے اور ہم سے کی گنا زیادہ اچھے ہاسپٹل ہیں پھر بھی وہ بچ نہ پاے-

🔅 خوف اور ڈر کا ماحول حکومت نے نہیں بلکہ وہ خود ڈرے ہوے ہیں اس کیڑا سے  یہ اللہ کا عزاب ہے  جس کے آگے سب مجبور ہیں-

آج سب کو اپنے نقصان کا اندازہ ہے پھر بھی بند کر دیا گیا ہے اس کے باوجود اس کے خطرناک پن کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں کا جہاں روز کاروبار ہوتا تھا بند کر دیا گیا ہے پر  آج بھی ہمارے قوم کے لوگ اس بندی کو سمجھ نہیں رہے اللہ نے پورے دنیا کو ایک چھوڑے کیڑے کے ذریعہ سے پوری دنیا کو روک کے رکھ دیا ہے اور کوی کچھ نہیں کر پا رہا-

🔅 اللہ کا غضب ہے وہ جلال میں ہے اور پھر بھی ہم ڈر نہیں رہے *یہ دیکھنے کو مل رہا کی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اس بندی میں اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ استغفار کرنے کے بجائے کر کٹ کھیلا جارہا ، کیرم اور لوڈو کھیل رہے بچے ،گھروں میں ٹیلی ویژن دیکھا جارہا* ایسا لگتا لہو لعب کے لے ہی برے کام کے لیے ہی یہ بندی کی گی ہے اللہ کے واسطے اس چیز کو مزاق نہی سمجھیں احتیاط کریں
 بیشک اللہ جب تک نہی چاہے کسی کو موت نہیں آ سکتی لیکن ہم اپنے رب سے یہ دعاء تو مانگ ہی سکتے ہیں کی اللہ ایسی موت سے بچا جسمیں ہمارا آخری مرحلہ کافروں کے ہاتھوں ہو-

📌 جب اس طرح کی وباء پھیل جاےتو بندہ کو ڈرنا چاہیے۔ اور اپنے رب کی طرف پلٹ جانا چاہیے یہ بلایں ہنسی مزاق سیروتفریح کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیں پلٹانے کے لیے ہوتی ہیں اپنے رب کی طرف اپنے دین کی طرف-

قرآن پاک کی آیت کریمہ ہے:

ولنذیقنھم من العذاب اکادمی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون 📘(پارہ۲۱ سورہ سجدہ)

اور ضرور ہم انہیں چکھایں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے جسے دیکھنے والا امید کرے کی بھی باز آئیں گے-

👆🏻 اس آیت کی تفسیر میں ہے کی بڑے عذاب سے مراد عذاب آخرت سے ہے  اور چھوٹے عزاب سے مراد دنیا ہی میں قتل اور گرفتاری اور قحط اور امراض وغیرہ میں مبتلا کرکے-

🔅 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل قریش امراض و مصائب میں گرفتار ہوے اور بعد ہجرت بدر میں مقتول ہوے گرفتار ہوے اور سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں مبتلا رہے کی ہڈیاں اور مردار اور کتے تک کھا گے-

ابھی بھی لوگ مذاق سمجھ رہے چاند گہن اللہ کے عذاب کی نشانی سورج گہن اللہ کے عذاب کی نشانی قحط سالی اللہ کے عذاب کی نشانی اللہ کے عذاب میں سے ہے بندوں سے عبادت توفیق چھین لے ابھی جیسا ہو رہا یہ وقت ہمیں آرتھک مندی کی طرف لے جارہا سب سے زیادہ پریشانی غریبوں کو ہوگی اللہ ہمیں اپنے عذاب سے بچاے اللہ کے غضب کو مذاق نہ سمجھیں یہ توبہ کا وقت ہے-

✴ ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی پوری دنیا میں طبی نقطہ نظر سے دوسرے نمبر پر ہے اور امریکہ جو سپر پاور ماناجاتا ہے اسکی کیا حالت ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے اس معاملہ میں
The wire Hindi

کی ایک رپورٹ کے مطابق

Central health ministry

کی طرف سے جاری کیے گیے ایک آنکڑے سے پتا چلتا ہے کی ملک میں حالت اتنی نازک ہے ہر 11,600 ہندوستانیوں پر 1ڈاکٹر اور 1,826ہندوستانیوں پر ہاسپٹل میں 1ہی بیڈ ہے-

👆🏻یہ عام طور کی بات ہے

اور اگر کرونا وائرس کے مد نظر سے جو رپورٹ👇🏻

central health ministry

جاری کی ہے اسکے حساب سے
84,000 مریض پر ,1 isolation bed
36,000 qurantine bed
1 مریض پر
یہ رپورٹ 17 مارچ تک کی ہے-

 اس سے کوی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کی اگر یہ بیماری اپنے تیسرے دور میں داخل ہوی اور جس طرح کی آبادی ہمارے ملک کی ہے ہر روز ہزاروں لوگ اسکا شکار ہوں گے اسلے اپنی جان کی حفاظت کریں احتیاط برتیں توبہ و استغفار کریں

🔅ایسے وقت میں کرنا کیا چاہیے ہمیں قرآن کی یہ آیت ہمارے لیے بہت ہمت دینے والی ہے:

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون-
📘( پارہ ۹ سورہ انفال)

 اور اللہ کا کام نہیں کی انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرماہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں-

📌سنت الٰہیہ ہے کی جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہو جائیں اور کوی نہ بچے-

جماعت مفسرین کا قول ہے کی یہ آیت سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوی جب آپ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور جب آ پ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گے جو توبہ واستغفار کیا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوی کی جب تک استغفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہیں آےگا-

اس سے پتا چلا استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے-

🔅 حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دو امانتیں اتاریں ایک میرا تشریف ہونا اور ایک ان کا استغفار کرنا-

پتا چلا کی اس مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں تو اپنے محبوب کا وسیلہ پیش کر کے توبہ استغفار کریں اللہ ہمیں ہماری قوم کو اپنے محبوب کے مبارک مہینہ کے صدقے محفوظ فرمائے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب ماہ شعبان آجاے تو اپنے جسموں کو پا کیزہ رکھو اور اس ماہ میں اپنی نیتیں اچھی رکھو انہیں حسین بناؤ-

نبی کے صدقہ طفیل اللہ ہمیں اس عذاب سے بچاے یا اللہ یا رحمان ہم پر رحم فرما اپنے حبیب کے صدقے

🖌 اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی مینیجر مدرسہ سرتاج العلوم غوث الورٰی

🔗Join Telegrm
https://t.me/Gausulwara

Post a Comment