رمضان المبارک:

اللہ نے اس  مہینے کو اس قدر بابرکت بنایا ہے کہ ہر مومن بندے کو اس مہینے کا شدت سے انتظار رہتا ہے تاکہ اس کے ذخیرہ رحمت مغفرت اور نجات سے ایک معقول حصہ حاصل کر سکے
ارشاد ربانی ہے👇🏻
يا يهاالذين امنوا كماكتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون
📕(سورة بقرة)

ترجمہ: اے ایمان والو ں تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے ماننے والوں پر فرض کیے  گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

حدیث شریف:
جس سخص نے ایمان واحتساب کی غرض سے روزہ رکھا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے تمام اگلے گناہوں کو معاف فرما دے گا-
📖(بخاری شریف،باب صوم رمضان احتسابا من الایمان)

✴ نماز کی طرح روزہ بھی فرض عین ہے اس کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر اور بلا عزر چھوڑنے والے سخت گناہگار اور عذاب جہنم کا سزا وار ہے
اس مہینے میں ہر نیک عمل کا  بدلہ ایک سے ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے مثلاً نفل کے بدلے فرض کا اور فرض کے بدلے ستر فرائض کا ثواب ملتا ہے-

لیکن اس مہینے کی اور ایک  خاصیت ہے وہ یہ کی اس مہینے کو ہمدردی اور مروت کا مہینہ ہونے کا بھی شرف حاصل ہے اس لیے ہمارے اوپر لازم ہو جاتا ہے کی اس مہینے میں روزہ اور  نماز کے ساتھ انسانی ہمدردی کا بھی مظاہرہ کریں جو  ہماری مروت کے زیادہ حقدار ہیں ان سے عملی طور پر ہمدردی کریں مثال کے طور پر اگر اللہ نے آ پ کو اس لائق بنایا ہے کی اپنے گھر والوں کی سحری اور افطار کا ساتھ محتاج  و پریشان حال روزہ داروں کے لیے بھی انتظام کر سکیں تو ضرور کریں کیوں کہ حدیث شریف میں اس کی بڑی فضیلت آی ہے👇🏻

حدیثِ شریف:
اس مہنیہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو اس میں روزہ دار کو افطار کراے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہےاور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کر دی جاے گی اس میں افطار کرانے والے کو ویسہ ہی  ثواب ملے گا جیسا روزہ  رکھنے والے کو اور بنا اس کے ثواب میں کچھ کمی کیے  حضور نے فرمایا  اللہ تعالیٰ۔ یہ ثواب اس شخص کو بھی  دیگا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کراے اور جسنے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے سیراب فرمائے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا-
📖(بیہقی)

عام طور پر مال ودولت والے لوگ گاؤں محلے کی مسجدوں میں کچھ نہ کچھ  انتظام کرواتے ہیں تاکہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو بہت اچھی بات ہے لیکن یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کی ان کے پڑوسی کے گھر کا کیا حال ہے اس لیے اس طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے
مزید یہ حدیث پاک بھی یاد رکھنے کی ہی وہ مومن نہیں ہے جو خود پیٹ بھر کر کھاے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے-
📖( بیہقی/مشکوة)

اس طرح کوی مسلمان خود تو لذیز چیز کھاے اور اس کے پڑوسی کو معمولی غزا بھی میسر نہ ہو تو کوی بعید نہیں کی وہ عزاب جہنم کا شکار ہو جاے-

اسی طرح دیکھنے میں آتا ہے کی ہم اپنی افطار بھی انہیں لوگوں کو دیتے ہیں جو ہمارے برابر کے ہیں جو ہمارے گھر بھی بھیجنے کے اہل ہوتے ہیں لیکن جو محتاج ہوتے ہیں لین دین کی حیثیت نہیں ہوتی ان کے گھر ہم نہیں بھیجتے جب کی حقیقت یہ ہے کی جن کے گھروں میں ہم بھیجتے ہیں وہ اس کے اہل نہیں بلکہ زیادہ حقدار یہی غربا و مساکین ہیں- افطار کی دعوت میں بھی  مالداروں کو بلایں اور غریبوں کو چھوڑ دیں تو ہمارا یہ عمل اللہ ورسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے -

ایک بات اور جو دیکھنے کو ملتی ہے رمضان میں ہمارا خرچ بڑھ جاتا ہے اور عید کی جب باری آتی ہے تو خرید وفروخت میں پانی کی طرح پیسہ بہانے لگتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی ہم فضول خرچی میں مبتلا  ہوتے ہیں جو نہ اللہ کو پسند نہ اس کے حبیب کو- اگر ہم اعتدال سے کام لیں تو فضول خرچی سے بھی بچ جایں گے اور غرباو مساکین کی مدد بھی کر سکتے ہیں ضروری نہیں ہے کی ہم عید میں کی سارے جوڑے لیں پہلے زمانہ میں تو لوگ ایک ہی جوڑا دونوں عیدوں میں پہن لیتے تھے-  اپنے والد سے ملے پیسوں میں سے کچھ غریبوں کو بھی دیں یقین مانیں آپ کا پانچ جوڑا بھی آپ کو اتنا سکون نہیں دیے گا جتنا کسی غریب کو ایک جوڑا دینے پر ہوگا اور جو دعاء ملیگی وہ الگ

اللہ فرماتا ہے  رشتے داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف و فضول خرچی سے بچو
📕(اسرا)

اعتدال سے کام لیں فضول خرچی سے بچیں غریبوں کی مدد کریں رمضان کی برکتیں آپ کو ضرور حاصل ہوں گی-

صدقہ فطر: جو کہ چھوٹے بچوں کے طرف  سے بھی دیا جاتا ہے اس میں بھی ایک چیز نظر آتی ہے جو کسی طرح سے بھی قابل تعریف نہیں ہے  ہم افطار کے لیے بڑی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جب صدقہ فطر دینے کی باری آتی ہے تو اس وقت بڑی بخیلی سے کام لیتے ہیں-

حدیث شریف میں بطور صدقہ فطر منقی، کھجور ،جو،گیہوں،دینے کا ذکر ملتا ہے
پھر بھی ان کی طرف توجہ نہیں دیتے جب صدقہ دینا ہوتا ہے تو آسانی کے لیے ہم گیہوں سے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں جب کی ہم اس کے علاؤہ چیزوں کو دینے پر بھی قادر ہوتے ہیں- ہونا تو یہ چاہیے کی جو جس لایق ہے اس حساب سے ادا کرے تاکہ غرباو مساکین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہونچ سکے
ابھی جو ماحول ہے اس کے حساب سے اس بار کچھ زیادہ دینے کی کوشش کریں
اگر گیہوں کا ہم اندازہ لگائیں تو کسی طرح سے بھی وہ کسی بھی خانہ میں فٹ نہیں بیٹھتا اتنا میں صحیح ڈھنگ سے افطار بھی نہیں آسکتا جس طرح ہم اپنے گھروں میں کرتے ہیں جبکہ ہم اپنے لباس پر اور دوسری اشیاء پر جتنا خرچ کرتے ہیں اس کا چوتھائی حصہ بھی دے دیں تو بہت سے حقداروں کی ضرورتیں بھی پوری ہو جایں اس بار کوشش ضرور کریں
صدقہ فطر دیتے وقت اپنے حیثیت کا جایزہ لیں پھر اپنے صدقہ فطرکی ادائیگی کا پیمانہ مقرر کریں-

عمل: ایک نیک عمل جو ہم آسانی سے کر سکتے ہیں پر کرتے نہیں ہیں اکثر لوگ
وہ یہ کی جب ہم سحری کے لیے اٹھیں تو منھ ہاتھ دھونے کے وقت وضو بنا لیں اور تہجد کی نماز پڑھ کر سحری کی تیاری کریں اس نیک عمل کے ذریعہ جہاں سحری کی برکت حاصل ہوگی تو دوسری طرف تہجد کی وجہ سے اللہ کا خاص فضل بھی حاصل ہوگا
اس لیے ہمیں چاہیے کی  فرائض واجبات بخوبی ادا کریں اور پھر نوافل اور تلاوت قرآن کی بھی کوشش کریں کیوں کہ رمضان شریف میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر فرائض کے برابر ملتا ہے پتہ نہیں اللہ کو ہمارا کون سا عمل پسند آجاے اور ہماری مغفرت کا وسیلہ بن جاے

🖌 اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی مینیجر مدرسہ سرتاج العلوم غوث الورٰی

Post a Comment