مصیبت ہمارے لیے نعمت ہوتی ہے وہ کیسے کی انسان غافل ہو جاتا ہے اپنے رب سے دور ہو گیے ہوتے ہیں لیکن جب
پریشانی آتی ہے تو بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے جب اس کو خوشحالی ہوتی ہے بھولا رہتا ہے لیکن جب پریشانی آتی ہے تو وہ جو پانچ اوقات کی فرض نماز نہیں پڑھتا اب جب کاروبار میں تنگی آی تو اب نفل بھی پڑھنے لگتا ہے اپنے رب کے طرف واپس آجاتا ہے اور یہ سب سی بڑی نعمت ہے کی بندہ اپنے رب کو یاد کرے
وَمَآاَصَابَکُمْ ِمّنْ مُصِیْبَتہٍ فَبِماَ کَسَبَتْ اَیْدِیْکُم وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ
📗( سورہ الشوریٰ پارہ 25)
اور جو تمہیں مصیبت پہونچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے
دنیا میں جو تکلیفیں اور
مصیبتیں مومنوں کو پہونچتی ہے اکثر اس کی وجہ ہمارے گناہ ہوتے ہیں اور جب یہ تکلیفیں ہمیں پہونچتی ہیں تو اللہ پاک ان تکلیفوں کو ہمارے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے
یاد رکھیں خوشیاں سلاتی ہیں اور غم جگاتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا جب بچہ خود کو گندہ کر لیتا ہے تو ماں اس کو نہلاتی ہے اس کے کپڑے کو صاف کرتی ہے اور بچہ روتا ہے اب بچہ کے رونے کی آواز آتی ہے تو پوچھیں اس کی ماں کہاں ہے جو بچہ رو رہا ہے تو جواب ملے گا ماں تو اس کے ہی پاس ہے تو بچہ کو چپ کیوں نہیں کرا رہی تو جواب ملے گا ماں ہی تو رلا رہی ہے
آپ کہیں گا ماں تو بچہ کو نہیں رلاتی تو جواب ملے گا بچہ گندہ ہو گیا تھا وہ اس کو صاف ستھرا کر رہی وہ اس کو گندہ نہیں دیکھ سکتی اس کو صاف ستھرا کرکے سینہ سے لگانا چاہتی ہے اس لیے اس کو صاف ستھرا کر رہی ہے ایسے ہی جب بندہ خود کو گندہ کر لیتا ہے گناہوں سے تو اس کی طرف پریشانی آتی ہے تاکہ گناہوں سے پاک و صاف ہو جاے توبہ و استغفار کر لے
اللہ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے اس کو ایک بار سچے دل سے پکاریں تو وہ ہماری فریاد ضرور سنتا ہے
ایک شخص تیس سال تک زندہ رہا کہ کبھی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا،فرشتوں نے عرض کیا کہ خداوند تیرے فلاں بندہ نے اتنی مدت سے تیرا ذکر نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میری نعمت میں ڈوبا ہوا ہے اگر اس کو میری طرف سے مصیبت پہونچے تو وہ ضرور مجھ کو یاد کرے گا ،حضرت جبریل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اس کی حرکت کرنے والی رگوں میں سے ایک رگ کو چلنے سے روک دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا وہ شخص کھڑا ہو کر یا رب یا رب کہنے لگا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں حاضر ہوں اے میرے بندے
تو اتنی مدت کہاں تھا؟
اتنے سالوں سے اپنے رب کو یاد نہیں کیا پر جب پریشانی آی تو رب یاد آیا اور رب ایک پکار پر سنتا ہے آپ چاہے سالوں اس سے دور ہوں یہ ہے ہمارے رب کا کرم نہیں تو کیا ہے
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَ نْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ
📗( سورہ البقرہ پارہ 2)
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اورکچھ بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے
اور کبھی یہ پریشانی ہمارے آزمائش ہوتی ہے اگر ہم صبر کر لیں تو کامیاب ہو جایں گے اور کبھی یہ پریشانیاں رفع
درجات کے لیے ہوتی ہے ہم اللہ سے بہت کچھ مانگ لیتیں ہیں اور حقیقت میں ہمارے اعمال ایسے نہیں ہوتے تو جب ہمیں پریشانی پہونچتی ہے تو ہم اپنا اعمال درست کر لیتے ہیں مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں تو اللہ پاک ہمیں اس کا بہترین اجر عطا فرماتا ہے
انسان چاہتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ اور ہے تو انسان پریشان ہو جاتا ہے جب مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے گناہ کی سزاہے یہ صحیح بھی ہے کی کیوں کی قرآن پاک میں ہے کی جو مصیبت تمہیں پہو نچی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے
اور دوسری طرف قرآن کہتا کی ولنبلونکم بشی ء اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تو اب ہمیں پریشانی آے تو کیسے سمجھیں کی کس وجہ سے ہے تو اس کو اس طرح جان سکتے ہیں جب مصیبت آے اور وہ سب کچھ چھوڑ دے نماز نہ پڑھے اللہ کی طرف نہ جاے تو یہ اسکی لیے سزا ہے اور اگر پریشان ہونے پر بھی وہ اپنے رب کے احکام سے رو گردانی نہ کرے اور صبر کرے تو یہ آزمائش ہے رب کی جب کوی پریشانی آے تو اس کی وجہ ڈھونڈے کی کس غلطی کی وجہ سے ہے اس کو دور کرے اور اگر تمام تر کو شش کےبا وجود توبہ واستغفار کے بعد بھی نہ ختم ہو تو سمجھ لینا چاہیے کی یہ آزمائش ہے اللہ سے ثابت قدم رہنے کی دعاءمانگے اور صبر کرے اور اپنے رب کی حمد بیان کرے تو اللہ کا کرم اس پر ضرور ہوگا
اللہ کے نبیوں کو بہت سی تکلیفیں پہونچیں ہمارے نبی کو کافروں نے بہت پر یشان کیا پر آپ نے ہمیشہ ان کی ہدایت کی دعاء فرمائی یہ ہمارے نبی کی خطاء کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ آزمائش تھی انبیاء تو معصوم ہوتے ہیں
ہمارے نبی کے نواسے حضرت حسین کو کر بلا میں کتنی پریشانی اٹھانی پڑی تو کیا وہ گناہ کی وجہ سے تھا نہں بلکہ اللہ نے انہیں آزمایا بھوک پیاسے رہ کر اپنی جان کو اللہ راہ میں قربان کر دیا اللہ نے انہیں ہر طرح سے آزمایا اور وہ سب آزمائش میں کامیاب ہوے
آج کا ماحول اگر دیکھیں جو پریشانیاں مسلمانوں کو آی ہیں وہ ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ ہیں ہم نے اپنے رب کے علاوہ ہر کسی سے ڈرناشروع کر دیا ہے اپنے لوگوں سے دور ہو گئے ہیں دوسروں کی پریشانی سے ہمیں کوی فرق نہیں پڑتا اتنا خراب اخلاق ہو گیا ہے ہمارا ابھی بھی وقت ہے کی اپنے رب سے ڈریں اور اس کی رحمت سے نا امید نہ ہوں اگر ہم میں یہ دونوں چیزیں آگئیں تو ہم ہر مشکل آسانی سے پار کر لیں گے
لا تقنطوامن رحمۃ اللہ (زمر)
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو
🖌 اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی
⏰ 5شعبان المعظم 1441ھ

ایک تبصرہ شائع کریں