انسان کی شفقت اپنے لوگوں تک ہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ غصہ کے وقت وہ نرمی بھی باقی نہی رہتی
پر جب ہم سرکار دو جہاں کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو بلکل الگ آپ کیشفقت جس طرح صحابہ اکرام پر تھی اسے دیکھ کر کوی یہ کہ سکتا ہے کی یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا وطن اپنے جان ومال کی پرواہ نہ کی ان کے لے شفقت ہونا کچھ انوکھا نہیں لیکن سیرت رسول کا مطالعہ کرنے والے کی عقلیں اس وقت ضرور حیران ہوں گی جب وہ آقا کریم کی شفقت اپنے دشمنوں پر بھی اسی طرح دیکھیں گے جس طرح اپنے چاہنے والوں اپنے دشمنوں کو یک لخت معاف فرماتے نظر آیں گے
آقا ﷺ کی یہ شفقت فقط انسانوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ آپ کی شفقت بے زباں جانوروں پر بھی ہے
اسلام مذہب کی تعلیم کو پہلے آقا کریم ﷺ نے اپنے زندگی میں اس پر عمل کیا تاکہ امت کو بھی آسانی ہو
قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے-
اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی (الاسراء) اور
جس جان کی حرمت اللہ نے رکھی اسے نا حق نہ مارو (المایدہ)
اللہ کا یہ فرمان عام ہے کی انسان کسی بھی عقیدہ رنگ ونسل کا ہو اسکی تعظیم اور رحم و کرم اس پر بحیثیت انسان کے ہے
📌قیس بن سعداور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما قادسیہ میں تھے تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزراتووہ دونوں کھڑے ہو گے ان سے کہا گیا یہ جنازہ کافر کا ہے تو انہوں نے کہا-
رسول ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گے تو ان سے کہا گیا کہ یہ یہودی کا تھا توآپ نے فرمایا کیا یہ جاندار نہیں تھا -📖(مسلم)
یہاں آقا کریم ﷺ نے تمام شک و شبہات دور کر دے اسلے کی جب آقا کریم ﷺ یہودی کے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوے تو حاضرین کو یہ گمان ہوا کی شاید آپ کو اس کے کافر ہونے کا علم نہیں اس لئے آپ کو اطلاع دی گی
اس کے باوجود سرکار نے فرمایا کیا وہ جان والا نہیں تھا یہاں غور کا مقام ہے اس آدمی تک ضرور اسلام کی دعوت پہونچی ہوگی آپ کے نبی ہونے کا علم بھی ہوا ہوگا پھر بھی وہ اپنے دین پر قائم رہا اس کے باوجود آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازہ کا احترام کیا وہ بشریت کا احترام کیا گیا تھا.
فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف فرمانا اتنا شفقت کی کتنوں کے گھر میں داخل ہو جانے سے امان , یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیشہ آپ کو تکلیف دی آپ چاہتے تو اس کا بدلہ لیتے پر آپ نے معاف فرما دیا
مظلوم کی بد دعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو کیوں کی مظلوم کی دعا کے لے کوی حجاب نہیں -📖(مسنداحمد)
اس سے پتا چلتا ہے کوی مسلمان ایسا کرے تو آقا اس کے ساتھ نہیں
📌جانوروں پر شفقت
حکومتیں آج جانور کے تحفظ کے لئے آج بیدار ہو رہی ہیں قربان جایں اپنے آقا پر آپ نے چودہ صدی قبل ہی انکے تحفظ اور انکی حمایت کا اعلان فرمایا تھا.
حضرت ابو ہریرەرضی اللہ عنہ روایت ہے-
نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کی ایک کتا کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکلنے والی ہو بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا اپنا موزہ اتار کر کے اس کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہوى -📖(بخاری شریف)
آقا ﷺ نے جانوروں کے لئے پودے لگانے کو بھی صدقہ قرار دیا ہے اس کے باعث اجر بھی ملے گا.
ایک نجس جانور جسے ہر کوی دھتکارتا بھگاتا رہتا ہے اس کے ساتھ رحم و کرم کرنے پر مغفرت کا باعث قرار دیا جانا حد درجہ رحم و کرم کی دلیل ہے آقا کریم ﷺ کا اپنے صحابہ کے سامنے یہ واقعہ بیان فرم کر انہیں جانوروں پر رحم کرنے کی ترغیب فرمای.
آقا ﷺ نے جانوروں کو بھوکا رکھنے سے منع فرمایا اسے تکلیف دینے طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے سے منع فرمایا
جو قیدی جنگ میں آتے ان کے ساتھ نرمی کا حکم فرماتے انکے کھانے پینے کا خیال رکھنے کا حکم دیتے آپ کی شفقت تمام لوگوں پر تھی چاہے وہ انسان ہو حیوان ہو دشمن ہو دوست آپ کی شفقت سب کے لیئے تھی.
پوسٹ- اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی رضوی
پر جب ہم سرکار دو جہاں کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو بلکل الگ آپ کیشفقت جس طرح صحابہ اکرام پر تھی اسے دیکھ کر کوی یہ کہ سکتا ہے کی یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا وطن اپنے جان ومال کی پرواہ نہ کی ان کے لے شفقت ہونا کچھ انوکھا نہیں لیکن سیرت رسول کا مطالعہ کرنے والے کی عقلیں اس وقت ضرور حیران ہوں گی جب وہ آقا کریم کی شفقت اپنے دشمنوں پر بھی اسی طرح دیکھیں گے جس طرح اپنے چاہنے والوں اپنے دشمنوں کو یک لخت معاف فرماتے نظر آیں گے
آقا ﷺ کی یہ شفقت فقط انسانوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ آپ کی شفقت بے زباں جانوروں پر بھی ہے
اسلام مذہب کی تعلیم کو پہلے آقا کریم ﷺ نے اپنے زندگی میں اس پر عمل کیا تاکہ امت کو بھی آسانی ہو
قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے-
اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی (الاسراء) اور
جس جان کی حرمت اللہ نے رکھی اسے نا حق نہ مارو (المایدہ)
اللہ کا یہ فرمان عام ہے کی انسان کسی بھی عقیدہ رنگ ونسل کا ہو اسکی تعظیم اور رحم و کرم اس پر بحیثیت انسان کے ہے
📌قیس بن سعداور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما قادسیہ میں تھے تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزراتووہ دونوں کھڑے ہو گے ان سے کہا گیا یہ جنازہ کافر کا ہے تو انہوں نے کہا-
رسول ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گے تو ان سے کہا گیا کہ یہ یہودی کا تھا توآپ نے فرمایا کیا یہ جاندار نہیں تھا -📖(مسلم)
یہاں آقا کریم ﷺ نے تمام شک و شبہات دور کر دے اسلے کی جب آقا کریم ﷺ یہودی کے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوے تو حاضرین کو یہ گمان ہوا کی شاید آپ کو اس کے کافر ہونے کا علم نہیں اس لئے آپ کو اطلاع دی گی
اس کے باوجود سرکار نے فرمایا کیا وہ جان والا نہیں تھا یہاں غور کا مقام ہے اس آدمی تک ضرور اسلام کی دعوت پہونچی ہوگی آپ کے نبی ہونے کا علم بھی ہوا ہوگا پھر بھی وہ اپنے دین پر قائم رہا اس کے باوجود آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازہ کا احترام کیا وہ بشریت کا احترام کیا گیا تھا.
فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف فرمانا اتنا شفقت کی کتنوں کے گھر میں داخل ہو جانے سے امان , یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیشہ آپ کو تکلیف دی آپ چاہتے تو اس کا بدلہ لیتے پر آپ نے معاف فرما دیا
مظلوم کی بد دعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو کیوں کی مظلوم کی دعا کے لے کوی حجاب نہیں -📖(مسنداحمد)
اس سے پتا چلتا ہے کوی مسلمان ایسا کرے تو آقا اس کے ساتھ نہیں
📌جانوروں پر شفقت
حکومتیں آج جانور کے تحفظ کے لئے آج بیدار ہو رہی ہیں قربان جایں اپنے آقا پر آپ نے چودہ صدی قبل ہی انکے تحفظ اور انکی حمایت کا اعلان فرمایا تھا.
حضرت ابو ہریرەرضی اللہ عنہ روایت ہے-
نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کی ایک کتا کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکلنے والی ہو بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا اپنا موزہ اتار کر کے اس کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہوى -📖(بخاری شریف)
آقا ﷺ نے جانوروں کے لئے پودے لگانے کو بھی صدقہ قرار دیا ہے اس کے باعث اجر بھی ملے گا.
ایک نجس جانور جسے ہر کوی دھتکارتا بھگاتا رہتا ہے اس کے ساتھ رحم و کرم کرنے پر مغفرت کا باعث قرار دیا جانا حد درجہ رحم و کرم کی دلیل ہے آقا کریم ﷺ کا اپنے صحابہ کے سامنے یہ واقعہ بیان فرم کر انہیں جانوروں پر رحم کرنے کی ترغیب فرمای.
آقا ﷺ نے جانوروں کو بھوکا رکھنے سے منع فرمایا اسے تکلیف دینے طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے سے منع فرمایا
جو قیدی جنگ میں آتے ان کے ساتھ نرمی کا حکم فرماتے انکے کھانے پینے کا خیال رکھنے کا حکم دیتے آپ کی شفقت تمام لوگوں پر تھی چاہے وہ انسان ہو حیوان ہو دشمن ہو دوست آپ کی شفقت سب کے لیئے تھی.
پوسٹ- اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی رضوی

ایک تبصرہ شائع کریں