سبحان الذی ا سر ی بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ

📙(پارہ ۱۵ رکوع ۱)

⬅ فرمان نبویﷺ ہے رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے-

اللہ پاک نے ہمیں بہت سے نعمتیں عطا فرمائی ہے جس کو ہم شمار نہیں کر سکتے انہیں نعمت والی چیزوں میں یہ مہینہ بھی ہے-

❇ رجب اسے اصب بھی کہا گیا ہے کیوں کی اسمیں توبہ کرنے والوں پر رحمت انڈیل دی جاتی ہے اور نیک عمل کرنے والوں پر قبولیت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے-

⬅ جتنے انبیاء اکرام اس خاک دان گیتی پر تشریف لائے سب کو قسم قسم کے بے مثال معجز ے اللہ نے عطا فرمایا کوئی نبی معجزہ سے خالی نہیں تھے لیکن ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سا رے نبیوں کے پیشوا اور امام ہیں اور تمام کمالات کے جامع ہیں اس لیے آپکو ہر معجزے میں بےمثال بنایا گیا-

ہمارے نبی کو جہاں بہت سے کمالات اور رفعتیں عطا ہوئیں اسمیں سے ایک کمال معراج پاک ہے کا بھی عطا ہوا جو اسی ماہ رجب کی 27* تاریخ کو عطا ہوا-

آقا کریمﷺ اپنے جسم انور کے ساتھ مکّہ معظمہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر اور پھر آسمانوں سے عرش اعظم اور لا مکاں تشریف لے گئے اور *سر کی مبارک آنکھوں سے اللہ پاک کا دیدار* اس شان سے کیا کی, *ما ز ا غ البصر و ما طغى*، یعنی آپکی پلک بھی نہی جھپکی-

معراج ایک معجزہ نہی بلکہ کی معجزوں کا جامع ہے یہ ایک ایسا معجزہ جو نا معلوم کتنے معجزوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور *اللہ پاک کو دیکھنے کا جو شرف ہمارے نبیﷺ کو عطا ہوا* وہ کبھی کسی کو نہیں ملا-


بعض لوگ اس کے جسمانی ہونے کے اعتبار سے انکار کرتے ہیں پر اللہ پاک نے اس سے پہلے ہی یہ سننت قایم کر دی تھی حضرت آدم وہاں سے آے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں سے گے کوی اثر ان دونوں پر نہیں ہوا تو میرے سرکارﷺ پر کیا ہوگا-

کیسی عظیم شان ہے سرکارﷺ کی ہمارے آقاﷺ نے بتایا کہ وہ آے تھے اور یہ گے تھے میں جاتا بھی ہوں اور آتا بھی ہوں-

*حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعاء کی اے میرے پروردگار مجھے اپنا دیدار کرا دے میں تیرا دیدار کرنا چاھتا ہوں-* پر میرے آقا کریمﷺ کی شان سب سے الگ ہے کبھی کوی ضعیف حدیث بھی نہیں سنا سکتاکی نبیﷺ نے دعاء کی ہو تب جاکر اللہ نے بلایا ہو بلکہ شب معراج آقاﷺ کی حاضری اللہ کے بلاوے پر ہوی ہے اور *ایسا قرب خاص* حاصل ہوا جو کبھی کسی کو نہیں ملا ایک جگہ دعا ہے اور ایک جگہ خود بلایا جا رہا ہے-

🌹طور اور معراج کے قصے سےہوتا ہے عیاں،اپنا جانا اور ہےاس کا بلانا اور ہے،🌹
میرے آقاﷺ کے اتنا عظیم مقام ہےکہ کوی اس مقام تک نہیں پہونچ سکتا- اسی منظر کی عکاسی فرماتے ہیں سرکار اعلیٰ حضرت:

تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی،
کہیں تو وہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے ساتھ


💝 اللہ نے اسی شب کو نمازکا تحفہ بھی عطا فرمایا اور یہ نماز جو ہم پر فرض ہوی یادگار معراج ہے-

میرے آقاﷺ فرماتے ہیں *،الصلاة معراج المؤمنين،* نماز مومنین کے لیے معراج ہے-

اللہ نے ہمیں روزا نہ معراج کا موقع عطا فرمایا نماز کی صورت میں- نماز اس لے معراج ہے بندہ کی حدیث شریف میں ہے بندہ اللہ سے سب سے زیادہ اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے- لہذا دعا کی کثرت کرو-
📘( نسائی شریف جلد اول صفحہ ۱۷۰/۱۷۱)
📌 آج ہم سب سے زیادہ *نماز سے ہی دور ہیں-* ہر کام کے لیے ہمارے پاس وقت ہوتا ہے پر نماز کے لیے نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو خشوع اور خضوع نہیں ہوتا-

جب کی نماز دین کا ستون ہے ،
نماز جنت کی کنجی ہے،

افضل عمل یہ ہے کی نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا جاے،

نبیﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے ،

⚠اور نماز نہ پڑھنے پر سخت وعید آئی ہے

🔅فرمان نبیﷺ ہے جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زمہ داری سے نکل گیا ،

آدمی اور شرک یا کفر کے درمیان فرق نما ز کا چھوڑ دینا ہے،

غور کرنے کا مقام ہے کی ایک انسان کی پہچان کا ذریعہ نماز ہے اگر ہم اسے ہی چھوڑ دیں تو ہماری کیا پہچان ہوگی اگر نبیﷺ ہماری زمہ داری نہ لیں تو کون ہے جو ہماری مدد کرے کوی بھی نہیں اس لے اللہ کے قہر وغضب سے بچنا ہے تو نبیﷺ کے فرمان پر عمل سے ہی بچ سکتے ہیں ان کا ہی سہارا دونوں جہاں میں اللہ ہم سب کو ان کے حکم کی فرمانبرداری کی توفیق دے- آمین🤲🏻

⬅ رجب کے مہینہ میں روزہ رکھنا بہت ہی با برکت ہے-

ایک قول ہے کی رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اس کا پانی وہی لیے گا جو رجب میں روزہ رکھے گا-

🔅 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضورﷺ نے فرمایا جس نے ماہ حرام (رجب) میں تین روزے رکھے اس کے لے نو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے-

✳ رجب کے مہینے میں ایک دن ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس نے اللہ کی عظیم رضا مندی کو اپنے لے واجب کر لیا-

✴ 27 رجب کا روزہ: بعض حدیثوں میں اس کی بڑی فضیلت آی ہے-

▫حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آقاﷺ نے فرمایا جس نے *رجب کی ستاءیسویں* کا روزہ رکھا اس کے لیےساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے-

▪حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کی رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میں گزارے سو برس کے روزوں اور سو برس کی شب بیداری کے برابر ہو اور وہ ۲۷رجب ہے-
📘(بیہقی)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عبادت کی توفیق عطا فرمائے اس ماہ مبارک کے صدقے مسلمانوں کے ایمان ،جان ومال کی حفاظت فرمائے- آمین🤲🏻
_از_______
اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی مینیجر مدرسہ سرتاج العلوم غوث الورٰی

۲۶ رجب المجرب۱۴۴۱ھ
22فروری2020


Post a Comment