قرآن پاک میں رحم و کرم کے تذکرے متعدد مقامات پر آے ہیں ترتیب کے مطابق قرآن پاک کا آغاز جس سورہ سے ہوا ہے اس سورہ فاتحہ میں بھی اللہ پاک کے دو خاص اوصاف رحمان اور رحیم کا ذکر ہی پاک کی تمام سورتوں کا آغاز سواے ایک کے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے.
اللہ کی صفت رحم کے بعد دوسری صفتوں کا بھی زکر ہو سکتا تھا مثلاً اللہ عظیم ہے سمیع و بصیر ہے پر ان کا ذکر نہ کر کے اس بات کی طرف اشارہ ہے
کہ اللہ کا رحم و کرم تمام صفتوں پر مقدم ہے
اللہ پاک صبح وشام اپنے بندوں پر رحمتیں نازل فرماتا ہے
ایک محقق کی راے کے مطابق اللہ کے صفت رحمت اور اس کے مشتقات کا ذکر ۳۱۵ صدق١٤٥ صبر ٩٠ عفو٤٣ وفا ٢٩ اس شمار سے اندازہ ہو تا ہے کی اللہ کے رحم و کرم کا ذکر کس احتمام سے کیا گیا ہے (البرھان فی علوم القرآن)
انبیاء اکرام کی جو دعائیں منقول ہیں قرآن میں ان سب میں اسی صفت کو ذریعہ بنایا گیا ہے
حضرت نوح علیہ السلام نے دعا فرمای -
اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہو جاوں -📖(سورۃ ھود)
احادیث میں بھی اس کی فضیلت اور اہمیت کا پتا چلتا ہے
حضرت ابو ہریرە رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -
میں نے رسول پاک ﷺکو فرماتے سنا کی مخلوق کو پیدا فرمانے سے پہلے اللہ پاک نے ایک تحریر لکھی کی میری رحمت میرے غضب پر
سبقت لے گی پس وہ لکھی ہوئی تحریر اسکے پاس عرش کے اوپر ہے -📖(بخاری)
ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کی اللہ پاک نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا فرمایا اس دن سو رحمت پیدا فرمای اور ایک رحمت زمین پر نازل فرمای اس رحمت کی وجہ سے ماں اپنے بچہ پر رحم کرتی ہے درندے پرندے ایک دوسرے پر -📖(مسلم)
اللہ کی رحمت کا شمار نا ممکن ہے اللہ اپنے بندوں پر صرف دنیا ہی میں رحم نہیں کرتا بلکہ آخرت میں بھی اکثر لوگ اس کے فضل سے جنت میں جایں گے۔
ایک رحمت کے کروڑوں حصہ کے محبت کرم و رحم کا یہ عالم ہے کہ ماں اپنے بچے کی لاکھ غلطی بھی معاف کر دیتی ہے پھر رب کی رحمت کا کیا پوچھنا اللہ ہم سب کو بھی اس دن اپنی رحمت عطا فرما جس دن کوی کسی کی خبر نہ لیگا.
پوسٹ- اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی رضوی
اللہ کی صفت رحم کے بعد دوسری صفتوں کا بھی زکر ہو سکتا تھا مثلاً اللہ عظیم ہے سمیع و بصیر ہے پر ان کا ذکر نہ کر کے اس بات کی طرف اشارہ ہے
کہ اللہ کا رحم و کرم تمام صفتوں پر مقدم ہے
اللہ پاک صبح وشام اپنے بندوں پر رحمتیں نازل فرماتا ہے
ایک محقق کی راے کے مطابق اللہ کے صفت رحمت اور اس کے مشتقات کا ذکر ۳۱۵ صدق١٤٥ صبر ٩٠ عفو٤٣ وفا ٢٩ اس شمار سے اندازہ ہو تا ہے کی اللہ کے رحم و کرم کا ذکر کس احتمام سے کیا گیا ہے (البرھان فی علوم القرآن)
انبیاء اکرام کی جو دعائیں منقول ہیں قرآن میں ان سب میں اسی صفت کو ذریعہ بنایا گیا ہے
حضرت نوح علیہ السلام نے دعا فرمای -
اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہو جاوں -📖(سورۃ ھود)
احادیث میں بھی اس کی فضیلت اور اہمیت کا پتا چلتا ہے
حضرت ابو ہریرە رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -
میں نے رسول پاک ﷺکو فرماتے سنا کی مخلوق کو پیدا فرمانے سے پہلے اللہ پاک نے ایک تحریر لکھی کی میری رحمت میرے غضب پر
سبقت لے گی پس وہ لکھی ہوئی تحریر اسکے پاس عرش کے اوپر ہے -📖(بخاری)
ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کی اللہ پاک نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا فرمایا اس دن سو رحمت پیدا فرمای اور ایک رحمت زمین پر نازل فرمای اس رحمت کی وجہ سے ماں اپنے بچہ پر رحم کرتی ہے درندے پرندے ایک دوسرے پر -📖(مسلم)
اللہ کی رحمت کا شمار نا ممکن ہے اللہ اپنے بندوں پر صرف دنیا ہی میں رحم نہیں کرتا بلکہ آخرت میں بھی اکثر لوگ اس کے فضل سے جنت میں جایں گے۔
ایک رحمت کے کروڑوں حصہ کے محبت کرم و رحم کا یہ عالم ہے کہ ماں اپنے بچے کی لاکھ غلطی بھی معاف کر دیتی ہے پھر رب کی رحمت کا کیا پوچھنا اللہ ہم سب کو بھی اس دن اپنی رحمت عطا فرما جس دن کوی کسی کی خبر نہ لیگا.
پوسٹ- اہلیہ محترمہ شاکر علی بریلوی رضوی

ایک تبصرہ شائع کریں